لندن میں برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کہ جس کا نام ‘‘مسلم ورلڈ یوتھ آرگنائزیشن ’’ نے لندن اولمپکس کا بھرپور موقع اٹھا کر مسلم کمیونٹی نے غیر مسلم کھلاڑیوں اور وہاں آنے والے شائقین میں اسلام کی تبلیغ کرنا شروع کر دی ۔ اور اس کا اثر یہ ہوا کہ اب تک ۶۰ لوگوں نے اسلام کی دعوت کو قبول کر لیا اور مشرف با اسلام ہو گئے ۔ مسلم ورلڈ یوتھ آرگنائزیشن کے عہدیداروں نے اس کے علاوہ مختلف سٹالز پر اسلامی پمفلٹس اور دعوتی ویڈویوز تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں ۔ اس اولمپک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس میں مختلف ممالک کہ جس میں امریکہ، کینڈا ، یورپ ، ایشیا اور افریقہ سے آئے ہوئے اولمپک کی تقریبات دیکھنے والوں کو اسلام کے متعلق معلومات فراہم کی جارہی ہیں اور اس میں بہت لوگ بڑی دلچسپی سے اسلام سے متعلق معلومات کو پرھتے ہیں اور اس میں اب تک ۶۰ لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کی اور مسلم ورلڈ یوتھ آرگنائزیشن نے اپنا دائرہ کار صرف اولمپک تک محدود نہیں رکھا بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں اپنے ورکرز کو چوکنا رکھا ہوا ہے ۔ اولمپکس کی گرما گرمی میں اور رمضان کی پابرکت گھڑیوں میں اس مہم کو اور بھی قوت ملی اور اس کو اور بھی اثر انداز کردیا ہے ۔ اور اس مہم کا آغاز اولملپکس کے آغاز سے ہی کر دیا گیا تھا ۔
اس کے علاوہ اس مہم کو شہر کے مختلف سیاحتی اور ثقافتی مرکزوں میں بھی اس مہم کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے ۔ اس تنظیم نے اپنی ان ساری سرگرمیوں کی دیکھ بھال کے لیے لندن کے شہر گرینٹس کی ایک مسجد میں رکھا ہے ۔ اس تنظیم نے اپنی مہم کا لوگو کا نام ‘‘ اسلام ایک ثقافتی، مذہبی اور اجتماعی دین ہے’’ رکھا ہے ۔ اور اس ہی حوالے سے پمفلٹس اور اشتہاری مواد چھاپا ہے ۔ اس میں اس تنظیم نے سب سے اہم کام یہ کیا جو مواد چھاپا اس کو مختلف زبانوں میں شائع کیا گیا تاکہ اس اولمپکس میں آئے ہوئے مختلف زبانوں کے جس میں انگلش ، پولش ، فرنچ اور جرمنی میں لکھے گئے مختلف پمفلٹس اور پوسٹر شائع کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی معلومات کو پڑھ سکیں ۔ اور اس مواد کو سپورٹس گاڑیوں ، شائقین کی نشستوں اور پبلک مقامات پر بھی بانٹا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق روزانہ ۲۰ ہزار لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے ۔ اس تنظیم نے لندن کی کئی کارپوریٹ کمپنیوں سے معائدہ بھی کیا ہے کہ جس کا مقصد اس مہم کا دائرہ کار زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے ۔
اس تنظیم نےحضور ﷺ کی اس حدیث کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے ‘‘تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے مفید ثابت ہو ’’ تاہم اس تنظیم نے اس مہم پر بہت سی رقم خرچ کی ہے لیکن بات یہاں پر یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا مال کبھی رائیگاں نہیں جاتا ۔
View the Original article
0 comments:
Post a Comment