Showing posts with label اولمپکس. Show all posts
Showing posts with label اولمپکس. Show all posts

لندن اولمپکس ولیج میں غیر مسلموں کا قبول اسلام

on Wednesday, August 8, 2012

Preaching of Islam in Lodon Olympics

Preaching of Islam in Lodon Olympics

لندن میں برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کہ جس کا نام ‘‘مسلم ورلڈ یوتھ آرگنائزیشن ’’ نے لندن اولمپکس کا بھرپور موقع اٹھا کر مسلم کمیونٹی نے غیر مسلم کھلاڑیوں اور وہاں آنے والے شائقین میں اسلام کی تبلیغ کرنا شروع کر دی ۔ اور اس کا اثر یہ ہوا کہ اب تک ۶۰ لوگوں نے اسلام کی دعوت کو قبول کر لیا اور مشرف با اسلام ہو گئے ۔ مسلم ورلڈ یوتھ آرگنائزیشن کے عہدیداروں نے اس کے علاوہ مختلف سٹالز پر اسلامی پمفلٹس اور دعوتی ویڈویوز تقسیم کرنا شروع کر دی ہیں ۔ اس اولمپک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس میں مختلف ممالک کہ جس میں امریکہ، کینڈا ، یورپ ، ایشیا اور افریقہ سے آئے ہوئے اولمپک کی تقریبات دیکھنے والوں کو اسلام کے متعلق معلومات فراہم کی جارہی ہیں اور اس میں بہت لوگ بڑی دلچسپی سے اسلام سے متعلق معلومات کو پرھتے ہیں اور اس میں اب تک ۶۰ لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کی اور مسلم ورلڈ یوتھ آرگنائزیشن نے اپنا دائرہ کار صرف اولمپک تک محدود نہیں رکھا بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں اپنے ورکرز کو چوکنا رکھا ہوا ہے ۔ اولمپکس کی گرما گرمی میں اور رمضان کی پابرکت گھڑیوں میں اس مہم کو اور بھی قوت ملی اور اس کو اور بھی اثر انداز کردیا ہے ۔ اور اس مہم کا آغاز اولملپکس کے آغاز سے ہی کر دیا گیا تھا ۔

اس کے علاوہ اس مہم کو شہر کے مختلف سیاحتی اور ثقافتی مرکزوں میں بھی اس مہم کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے ۔ اس تنظیم نے اپنی ان ساری سرگرمیوں کی دیکھ بھال کے لیے لندن کے شہر گرینٹس کی ایک مسجد میں رکھا ہے ۔ اس تنظیم نے اپنی مہم کا لوگو کا نام ‘‘ اسلام ایک ثقافتی، مذہبی اور اجتماعی دین ہے’’ رکھا ہے ۔  اور اس ہی حوالے سے پمفلٹس اور اشتہاری مواد چھاپا ہے ۔ اس میں اس تنظیم نے سب سے اہم کام یہ کیا جو مواد چھاپا اس کو مختلف زبانوں میں شائع کیا گیا تاکہ اس اولمپکس میں آئے ہوئے مختلف زبانوں کے جس میں انگلش ، پولش ، فرنچ اور جرمنی میں لکھے گئے مختلف پمفلٹس اور پوسٹر شائع کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام کی معلومات کو پڑھ سکیں ۔ اور اس مواد کو سپورٹس گاڑیوں ، شائقین کی نشستوں اور پبلک مقامات پر بھی بانٹا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق روزانہ ۲۰ ہزار لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے ۔ اس تنظیم نے لندن کی کئی کارپوریٹ کمپنیوں سے معائدہ بھی کیا ہے کہ جس کا مقصد اس مہم کا دائرہ کار زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے ۔

اس تنظیم نےحضور ﷺ کی اس حدیث کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے ‘‘تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے مفید ثابت ہو ’’ تاہم اس تنظیم نے اس مہم پر بہت سی رقم خرچ کی ہے لیکن بات یہاں پر یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا مال کبھی رائیگاں نہیں جاتا ۔


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

About the author

Samad Aslam Khan

Samad Aslam Khan is C.E.O at SKYS Web Solutions. He has the writing bug which is forcing him to contribute for Muslim Academy. He's serving for the Muslim Academy with all the skills he have or he can have. . .



View the Original article

لندن اولمپکس اور مسلمان خواتین و مرد

on Thursday, August 2, 2012

London Olympics and Muslims

لندن اولیمپکس کا گرما گرم آغاز ہو چکا ہے ۔ اور لندن اولیمپکس میں مختلف مسلمان ممالک سے بہت سارے مسلمان خواتین و حضرات نے اس میں بھرپور شرکت کی ہے ۔  لیکن اس میں سب سے زیادہ اہم وہ بات ہے کہ جس کو بڑی اہمیت کا نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔ اور وہ ہے مسلمان خواتین کا پاپردہ ہونا اور اس ہی صورت میں اولیمپکس کے فرائض سر انجام دینا ۔
لندن اولیمپکس ماسکو گیمز ۱۹۸۰ کے بعد پہلی دفعہ رمضان کے بابرکت مہینہ میں رکھا گیا ہے کہ جس میں مسلمان رمضان کے روزے اور مختلف فرائض کی سرانجام دہی میں مصروف ہوتے ہیں لیکن دنیا کے ساتھ چلنے اور اپنے ملک کی نمائیندگی کرنا بھی اپنا فرض عین سمجھتے ہیں ۔اس اولیمپک میں اس دفعہ مسلمان کھلاڑیوں کی تعداد ۳۰۰۰کے لگ بھگ ہیں اور بات یہاں ہی ختم نہیں ہو تی بلکہ برطانیہ کے قانون کے مطابق ہر گیم میں ۲ مسلمان کھلاڑی برطانیہ کی نمائندگی کریں گے۔

اور یہ بات بھی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے کہ پہلی دفعہ سعودی عرب نے بھی ۲ خواتین کھلاڑیوں کو لندن اولیمپکس میں شرکت کی اجازت دی ہے اس کے علاوہ برونائی اور قطر نے بھی خواتین کھلاڑیوں کو لندن اولیمپکس میں شرکت کی اجازت دی ہے ۔ اس کے علاوہ ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھی خواتین کو ویٹ لفٹنک ، ٹیبل ٹینس میں شرکت کے لیے بھیجا ہے ۔

لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مسلمان خواتین و حضرات کے ہر عمل کو اتنی باریک بینی سے کیوں دیکھا جا رہا ہے کہ اگر مسلمان عورت با پردہ آجائے تو اس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے ۔ اور ہر جگہ پر اس کو مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ آج کے مسلمان کا ایک دوسرے مسلمان کے ساتھ ناروا سلوک اور اسلام سے دوری ہے ۔ کیونکہ مسلمان اس دور میں ایک دوسرے سے کٹ کے رہ گئے ہیں ان کو دوسرے مسلمان کے دکھ درد کا کوئی احساس نہیں ہے ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غیر مسلم طاقتیں مسلم ممالک کو کس طرح برباد کرنے میں دن رات لگی ہوئی ہیں ۔ اور اس صورت حال میں بھی مسلمان ممالک کسی بھی قسم کا کوئی کام نہیں کر رہے کہ مسلمان ممالک کو کیسے یکجا کیا جائے اور پوری دنیا میں اپنا مقام بنایا جا سکے ۔ یہ ایک دور حاضر کا لمحہ فکریہ ہے کہ باطل قوتیں مسلمانوں پر قابض ہیں جنہیں وہ جیسے چاہیں استعمال کریں ۔

لندن اولیمپکس میں بظاہر تو یوں ہی لگتا ہے کہ سب کو مساوی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے پر درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ مسلمان کھلاڑیوں کو ہر وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ تب ہی کم کیا جاسکتا ہے جب مسلمان ممالک باطل قوتوں کے خلاف یکجا نہ ہو جائیں ۔