داڑھی رکھنا ہر مسلمان کا پسندیدہ عمل ہونا چاہیے کیونکہ داڑھی انبیاؑ کرام کی متفقہ سنت اور مسلمانوں کے لیے ایک ضروری عمل ہے۔ داڑھی سنت کے مطابق رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کیونکہ مسلمان سنت کے مطابق داڑھی رکھ کر ایک غیر مسلم سے منفرد اور دین اسلام کا پیروکار نظر آتا ہے۔ لیکن اگر آج کے اس فتنہ انگیز معاشرے میں جس طرح داڑھی کامزاق اڑایا جا رہا ہے وہ سراسر دین اسلام کے خلاف اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام کے کسی بھی پہلو اور نظریہ کا مزاق اڑانا ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔
اگر ہم اپنے اس معاشرے کا اگر جائزہ لیں تو سب سے زیادہ اور واضح بات یہ ہی ہے کہ سب سے زیادہ داڑھی کا مزاق اڑایا جا رہا ہے ۔ صبح اٹھ کر ہزاروں بلکہ لاکھوں امتی اپنے چہرے پر داڑھی کو صاف کر کے اس کو نالیوں میں بہا دیتے ہیں اور ان کو اس چیز کا زرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ہم کتنے بڑے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔
آج کفار جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ پر کیچڑ اچھال رہے ہیں (نعوذباللہ) اس پر ہم صرف احتجاج کر کے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور کفار ہیں کہ ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور روز بہ روز اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے اس کی ایک سب سے اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک داڑھی کا مزاق بھی ہے کیونکہ کفارہمارے معاشرے میں انشار پھیلانے اور مسلمانوں کے دلوں سے ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی محبت کو ختم کرنے پرلگا ہوا ہے لیکن ہم ہیں کہ ہمیں اس چیز کی پرواہ ہی نہیں ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے مختلف ارشادات میں داڑھی رکھنے کی ترغیب دی ہے اور ارشاد فرمایا کہ ‘‘مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھی بڑھاو اور مونچھیں کٹواو’’ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ داڑھی رکھنا حقیقت میں مشرکین اور کفار کی مخالفت کرنا ہے ۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں جو داڑھی نہ رکھنا ایک الگ بلکہ جس طرح اس کا مزاق اڑایا جا رہا ہے کیا وہ اس کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے ؟ کیونکہ ہم کفار اور مشرکین کے پیروی نہں کر رہے ہمیں ان سب کو بہت باریک بینی سے سوچنا چاہیے ۔ اور کفار کی سازش کو ناکام بنا کر اسلام کے جھنڑے کو سربلند کرنا چاہیے ۔
آج کل ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی باتیں کر کے داڑھی نہ رکھنے کے بہانے بنائے جاتے ہیں مثلا داڑھی رکھ کر کوئی غلط کام کریں گے تو داڑھی والوں کی بدنامی ہو گی ان لوگوں کا جزبہ تو اچھا ہے پر حقیقت میں شیطان کی بڑی چال ہے۔ ہمیں چاہیے کہ پیارے نبی اکرم ﷺ کی اس سنت کو اپنائیں اور کفار کی دین اسلام کے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بنائیں ۔
View the Original article
0 comments:
Post a Comment